جاگرافي

کليل ڄاڻ انسائيڪلوپيڊيا، وڪيپيڊيا مان
ڏانھن ٽپ ڏيو: رھنمائي, ڳولا

‎زمين جي اپالو 17 کان ورتي وئي تصوير ‏‎
‎زمين ۽ چنڊ‎
‎ پهاڙ‎
‎ملڪہ ء پربت‎
‎ طوفان‎

جاگرافي ‏‎(geography)‎‏ يوناني ٻولي جو لفظ آهي. جنهن جي معني آهي زمين جو بيان. "جاگرافي اهو علم آهي،جنهن ۾ زمين، انجي خصوصيتن، انجي باشندن‎ ، انجيُ مظهرن ۽ اُنجي نقشن جو مطالعو ڪيو ويندو آهي۔"‏

تاريخ[سنواريو]

ايراٽورٿينيس ‏‎(276-194B.C)‎ وہ پہلا شخص تھا.جس نے لفظ جاگرافي استعمال کیا.جغرافیہ کو زمین کی سائنس بھی کہا جاتا ہے.آج تک انسان نے جتنی بھی ترقی کی ہے.وہ جغرافیہ کی ہی مرہون منت ہے.زمین انسان کا گھر ہے.اور اس گھر سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کےلیے علم جغرافیہ انسان کی رہنمائی کرتا ہے.علم جغرافیہ پرانے زمانے میں بھی موجود رہا ہے.لیکن اس دور میں اسکی اہمیت بہت کم تھی.عموما دریاؤں،پہاڑوں،سمندروں اور مقامات کے نام یاد کرلینا ہی کافی سمجھا جاتا تھا.دوسرے علوم کی نسبت جغرافیہ میں بہت سست رفتاری سے ترقی ہوئی.


زمانہ قدیم میں جغرافیہ کا تصور[سنواريو]

اس علم کا آغاز بطور سائنس مصر و يونان میں ہوا۔ زمانہ قدیم کے جغرافیہ دانوں کی بعض تحریریں بڑی دلچسپ ہیں۔ مثلاً سٽرابو جو ایک اطالوي جغرافیہ دان تھا، اس خیال کا مالک تھا کہ سمندر کا پانی ایک بہت بڑے دریا کی طرح کسی ڈھلان پر بند رہتا ہے۔ ارسطو کا خیال تھا کہ فضا سے ہوا زمین میں داخل ہو کر محبوس ہو جاتی ہے اور جب وہ فضا میں واپس جانے کے لئے جدوجہد کرتی ہے تو زلزلو پیدا ہوتا ہے۔ مگر ان عجیب و غریب خیالات کے ساتھ ساتھ قدیم یونانیوں نے بعض حیرت انگیز دریافتیں بھی کیں۔ مثلاً 200 ق م کے قریب ارسطارتس نے مصر کے مشرق و مغرب میں مدوجزر کی لہروں میں تناسب معلوم کرنے پر یہ اعلان کیا کہ بحر اوقيانوس اور بحر هند آپس میں منسلک ہیں۔ اس کی ایک اور دریافت قابل ذکر ہے، جس کے مطابق اس نے بتایا کہ دور مغرب میں شمال سے ڏکڻ تک کوئی ملک ضرور واقع ہے۔ اس کے 1700 سال بعد ڪولمبس نے اس ملک آمريڪا کو دریافت کیا۔

جغرافیہ میں سب سے پہلے يونانين نے پیش رفت کرنا شروع کی۔ قرون وسطیٰ میں مسلم ممالک میں اس علم میں بہت پیش رفت ہوئی۔ اس دور کے اہم ناموں میں ابن بطوطہ، ابن خلدون ۽ ادريسي شامل ہیں۔ مسلمانوں کے علمی زوال کے بعد يورپ میں اس مضمون پر بہت پیش رفت ہوئی۔‏

جغرافیہ کی شاخیں[سنواريو]

حوالا[سنواريو]